تَظُنُّ أَن یُفۡعَلَ بِهَا فَاقِرَةࣱ ﴿٢٥﴾
التفسير
تفسير المیسر
ووجوه الأشقياء يوم القيامة عابسة كالحة، تتوقع أن تنزل بها مصيبة عظيمة، تقصم فَقَار الظَّهْر.
تفسير الجلالين
«تظن» توقن «أن يُفعل بها فاقرة» داهية عظيمة تكسر فقار الظهر.
غريب الآية
تَظُنُّ أَن یُفۡعَلَ بِهَا فَاقِرَةࣱ ﴿٢٥﴾
| تَظُنُّ | تَتَوقَّعُ.
|
|---|
| فَاقِرَةࣱ | مُصِيَبةٌ عَظِيمَةٌ.
|
|---|
الإعراب
إعراب سورة القيامة الآية ٢٥
(تَظُنُّ) فِعْلٌ مُضَارِعٌ مَرْفُوعٌ وَعَلَامَةُ رَفْعِهِ الضَّمَّةُ الظَّاهِرَةُ، وَالْفَاعِلُ ضَمِيرٌ مُسْتَتِرٌ تَقْدِيرُهُ "هِيَ"، وَالْجُمْلَةُ فِي مَحَلِّ رَفْعٍ خَبَرُ الْمُبْتَدَإِ (وُجُوهٌ) :.
(أَنْ) حَرْفُ نَصْبٍ وَمَصْدَرِيَّةٍ مَبْنِيٌّ عَلَى السُّكُونِ.
(يُفْعَلَ) فِعْلٌ مُضَارِعٌ مَبْنِيٌّ لِمَا لَمْ يُسَمَّ فَاعِلُهُ مَنْصُوبٌ وَعَلَامَةُ نَصْبِهِ الْفَتْحَةُ الظَّاهِرَةُ، وَالْمَصْدَرُ الْمُؤَوَّلُ مِنْ (أَنْ) : وَالْفِعْلِ فِي مَحَلِّ نَصْبٍ سَدَّ مَسَدَّ مَفْعُولَيْ (تَظُنُّ) :.
(بِهَا) "الْبَاءُ" حَرْفُ جَرٍّ مَبْنِيٌّ عَلَى الْكَسْرِ، وَ"هَاءُ الْغَائِبِ" ضَمِيرٌ مُتَّصِلٌ مَبْنِيٌّ عَلَى السُّكُونِ فِي مَحَلِّ جَرٍّ بِالْحَرْفِ.
(فَاقِرَةٌ) نَائِبُ فَاعِلٍ مَرْفُوعٌ وَعَلَامَةُ رَفْعِهِ الضَّمَّةُ الظَّاهِرَةُ.
الترجمة
Urdu - احمد علی
خیال کر رہے ہوں گے کہ ان کے ساتھ کمر توڑ دینے والی سختی کی جائے گی
ابوالاعلی مودودی
اور سمجھ رہے ہوں گے کہ اُن کے ساتھ کمر توڑ برتاؤ ہونے والا ہے
احمد رضا خان
سمجھتے ہوں گے کہ ان کے ساتھ وہ کی جائے گی جو کمر کو توڑ دے
جالندہری
خیال کریں گے کہ ان پر مصیبت واقع ہونے کو ہے
طاہر القادری
یہ گمان کرتے ہوں گے کہ اُن کے ساتھ ایسی سختی کی جائے گی جو اُن کی کمر توڑ دے گی،
علامہ جوادی
جنہیں یہ خیال ہوگا کہ کب کمر توڑ مصیبت وارد ہوجائے
محمد جوناگڑھی
سمجھتے ہوں گے کہ ان کے ساتھ کمر توڑ دینے واﻻ معاملہ کیا جائے گا
محمد حسین نجفی
وہ سمجھ رہے ہوں گے کہ ان کے ساتھ کمر توڑ دینے والا سلوک کیا جائے گا۔